Water Plant For Home

90فیصدبیماریوں کی وجہ پینے کا پانی ہے

صاف پانی ایک صحت مند معاشرے کی اولین ضرورت ہے۔وطن عزیز میں بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کے بعداب پانی بھی نہ صرف نایاب ہو چلا ہے بلکہ پینے کے صاف پانی کے معیار کے حوالے سے منظرِ عام پر آنے والے کچھ تلخ حقائق کے مطابق اب یہ نعمت بھی انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ ہے۔قومی تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پینے کا 82 فیصد پانی انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ ہے۔کراچی کی خبر تو آپ نے اوپر پڑھ لی لیکن بات محض کراچی کی نہیں بلکہ واٹر ریسرچ کونسل کی رپورٹ کیمطابق ملک کے 23بڑے شہروں میں پینے کے پانی میں بیکٹیریا ‘ آرسینک ،مٹی اور فضلے کی آمیزش پائی گئی ہے -صوبہ پنجاب میں اٹک کے مقام پر 85 فیصد‘بہاولپور50‘فیصل آباد45‘ گوجرانوالہ 68 ‘ گجرات اور قصور میں 78 فیصد ‘ لاہور‘میں 24فیصد‘ ملتان میں 48 فیصد‘ راولپنڈی میں 73 ،سرگودھا 77 شیخوپورہ 44 اور سیالکوٹ کے پانی میں 45 فیصد آلودگی پائی گئی جبکہ لاہور‘ ملتان ‘ سرگودھا ‘ قصور اور بہاولپور کے پانی میں سینکھیا کی مقدار موجود ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔پاکستان میڈیکل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 90 فیصد بیماریوں کی وجہ پینے کا پانی ہےجس کے باعث سالانہ 11لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسےلاعلاج مرض کی وجہ بھی وجہ بھی پینے کا آلودہ پانی ہے